Be-a-child
تعلیماتِ قلندر بابااولیاءؒ
ﷲ سے دوستی کرنا چاہتے ہو تو بچے بن جاؤ
بچہ بن جاؤ
حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب فرماتے ہیں کہ ‘‘امام سلسلہ عظیمیہ حضرت قلندر بابا اولیاء ؒ نے اﷲتعالیٰ کا دوست بننے کا ایک آسان طریقہ بتایا ہے۔
قلندربابا اولیاء ؒ فرماتے ہیں کہ
ﷲ سے دوستی کرنا چاہتے ہو تو بچے بن جاؤ۔
حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب اس ارشاد کی تشریح میں فرماتے ہیں کہ
‘‘بچہ بننے کا یہ مطلب نہیں کہ آپ کا جسم سکڑ کر چھوٹا ہوجائے یا آپ بچپن میں چلے جائیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اپنے اندر وہ اوصاف پیدا کرلئے جائیں جو بچوں میں موجود ہوتے ہیں۔ بچے اپنی تمام توقعات اور خواہشات اپنے والدین سے وابستہ رکھتے ہیں۔ ہر قسم کے حالات میں ہشاش بشاش اور خوش رہتے ہیں۔ ماں سرزنش کرے یا مار بھی دے پھر بھی دل میں میل نہیں آتا۔
ہم بھی اپنی تمام تر خواہشات اﷲ سے وابستہ کرلیں اور بچوں کے اوصاف پیدا کرلیں۔ تو اﷲ سے دوستی ہوجائے گی’’۔
اسی طرز کی ایک بات امام جلال الدین سیوطی سے منقول ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ
‘‘بچوں میں پانچ صفات ایسی ہیں کہ اگر بڑے وہ رویہ اپنے رب کے ساتھ اپنالیں تو وہ اولیاء بن جائیں:‘‘بچے رزق کی زیادہ فکر نہیں کرتے۔ بچے جب بیمار ہوتے ہیں تو اپنے خالق سے شکوہ نہیں کرتے۔ وہ کھانا ایک ساتھ مل جل کر کھاتے ہیں۔ بچے جب ڈر جاتے ہیں تو آنکھوں سے آنسو بہتے ہیں۔ جب وہ آپس میں لڑتے بھی ہیں تو صلح کرنے میں جلدی کرتے ہیں’’۔
[حسن المحاضرة ۔ امام جلال الدین سيوطی]
اسی طرح کا ایک اور قول حکیم جالینوس سے منسوب ہے کہ
‘‘بچوں کی چار عادتیں اگر بڑوں میں پیدا ہوجائیں تو وہ عالم بن جائیں۔ اوّل یہ کہ اگر انہیں کسی سے تکلیف پہنچتی ہے تو وہ کسی سے شکایت نہیں کرتے۔ دوئم یہ کہ وہ اپنے کھانے پہننے کی فکر نہیں کرتے۔ سوئم یہ کہ جو چیز اُنہیں ملتی ہے اُسے دوسرے روز کے لیے نہیں بچاتے۔ چہارم یہ کہ جب باہم لڑتے ہیں توکینہ نہیں رکھتے۔۔ ’’
بچے اور دماغی لہریں:
ممکن ہے آپ یہ سن کر حیران ہوں کہ بچوں کی ذہنی کیفیت یا فریکوئنسی ہر بالغ انسان کے اندربھی موجود ہوتی ہے۔ بہت سے عوامل اوروقت کی گرد ہمیں اُس فریکوئنسی سے دور کر دیتی ہے۔ فرض کریں کہ آپ گہری نیند سورہے ہیں۔ ایسی صورت میں آپ گہرے سکون کی کیفیت میں ہیں۔ آپ کا جسم غیر متحرک ہے۔ آپ کی آنکھیں بند ہیں لیکن گہری نیند کے باوجود آپ ایک دوسرے عالم میں باہوش وحواس چل پھر رہے ہیں۔ ظاہری آنکھوں کے بند ہونے کے باوجود مختلف مناظر دیکھ بھی رہے ہیں۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ اس دوران آپ کے دماغ میں کون سی لہریں دور کررہی ہیں۔
سائنسی تحقیق کے مطابق گہری نیند کے دوران انسانی دماغ میں ڈیلٹا لہریں دور کرتی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈیلٹا لہریں بچپن کے دور میں حالتِ بیداری میں بھی ہم پر طاری رہتی تھی۔
یعنی ہم جاگتے میں بھی خواب کا مشاہدہ کرسکتے تھے لیکن آہستہ آہستہ ماحول کے ہجوم اور خارجی علوم نے ہمارے لاشعور پر پردہ ڈال دیا اور ہمیں اُس لاشعوری فریکوئنسی سے دور کردیا۔ وہ ذہنی کیفیت ہمارے اندر موجود تو ہے لیکن پردۂ غفلت میں چلی گئی ہے۔ اب یہ کیفیت اُس وقت طاری ہوتی ہے جب ہم سورہے ہوتے ہیں۔ شاید اسی لیے حضرت امام غزالی ؒ نے تو یہاں تک فرمایا ہے کہ ‘‘نیند بھی عبادت ہے’’۔
سائنسی ریسرچ سے ثابت ہوگیا ہے کہ شیر خوار بچے کے ذہن میں ڈیلٹا لہریں دور کرتی ہیں۔ یہ وہی لہریں ہیں جو کہ ایک بالغ انسان کے ذہن میں گہری نیند کے دوران پیدا ہوتی ہیں۔
بچے وسائلِ زندگی کی فکر سے آزاد ہوتے ہیں:
چھوٹے اور معصوم بچے خود سپردگی کے انداز میں اپنی تمام توقعات اپنے والدین سے وابستہ رکھتے ہیں۔ والدین بھی دل وجان سے اُن کی ضروریات اور خواہشات کا خیال رکھتے ہیں....؟
بچے خارجی ماحول سے بے نیاز اور لاشعور سے قریب تر ہوتے ہیں یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ بچے فطرت سے قریب ہوتے ہیں۔
ایک ماہ کا بچہ اپنی ضروریات پوری کرنے کے لئے کتنا ناتواں اور بے بس ہوتا ہے وہ تو ایک تنکا بھی اُٹھا کر اِدھر سے اُدھر نہیں کرسکتا لیکن وسائل تو جیسے خود اس کے سامنے ہاتھ جوڑ کر کھڑے رہتے ہیں ابھی منّے میاں اس دنیا میں تشریف بھی نہیں لائے ہوتے کہ پہلے سے ہی ان کے استقبال کی تیاریاں شروع ہوجاتی ہیں۔ دنیا میں آتے ہی اُس کے لئے ماں کے دودھ کا انتظام ہوجاتا ہے۔ منہ دکھائی کے طور پر تحفوں کے ڈھیر لگنا شروع ہوجاتے ہیں۔ ہر کوئی اُسے اُٹھانے اور بوسہ لینے کے لئے بے تاب نظر آتا ہے۔
ہمیں سوچنا چاہیے کہ وسائل اور محبتیں کیوں بچے کی طرف دوڑتے آتے ہیں؟
جیسا کہ ہم نے عرض کیا کہ بچے کا ذہن ڈیلٹا لہروں کے زیرِ اثر ہوتا ہے جو کہ عام طور پر بالغ افراد میں گہری نیند کے دوران پیدا ہوتی ہیں۔ اب گہری نیند کی کیفیت سے لازمی بات ہے کہ انسان کو سکون ملتا ہے۔ وہ فریش ہوجاتا ہے اور وقتی طور پر خارجی تفکرات اس کے ذہن سے محو ہوجاتے ہیں۔ گویا بچوں کی ذہنی فریکوئنسی ہی اس قسم کی ہوتی ہے کہ جس میں پریشانی اور تردد پیدا ہی نہیں ہوتا۔ ایک گہری حالتِ سکون کی کیفیت مسلسل طاری رہتی ہے جو کہ اُنہیں خارجی دنیا کے مسائل، تفکرات اور پریشانیوں سے آزاد رکھتی ہے۔ بچوں کی نشوونما پر ماہرین نے جو تجربات کئے ہیں ان کے مطابق پیدائش کے وقت بچے میں غم، خوف اور دیگر ہیجانات موجود نہیں ہوتے۔
لاشعوری دنیا:
علی دوپہر سے گہری نیند سورہا ہے۔ ظاہر ہے کہ گہری نیند کی حالت میں اس کامادی وجود تو ساکت ہے۔ لیکن وہ عالم خواب (غیب) میں مصروفِ عمل ہے۔ اس دوران علی کے بیڈ کے پاس کچھ بچوں نے آکر کھیلنا شروع کردیا۔ گھر کے قریب ہی کسی فنکشن میں آتش بازی کے پٹاخے چھوڑے گئے اور اونچی آواز میں گانے لگادئیے گئے۔ صحن میں علی کی والدہ کسی سے باتیں کررہی ہیں۔ اس دوران مادی دنیا میں جو کچھ ہوا علی اس سے بے خبر یا بے نیاز رہا کیونکہ وہ ڈیلٹا لہروں کے زیرِ اثر بہت گہری نیند سورہا تھا۔ اس دوران علی ان تمام واقعات سے آگاہ رہا جو کہ لاشعوری دنیا یا عالمِ خواب میں رونما ہورہے تھے۔ مثلاً یہ کہ اُسے کسی بزرگ کی زیارت ہوئی اور اُن بزرگ نے اُسے بہت سی علمی باتیں بتائیں جوکہ وہ نہیں جانتا تھا۔ اس سے یہ نتیجہ نکلا کہ ڈیلٹا لہروں کے زیرِ اثر انسان کا ذہن مادی دنیا سے منقطع ہوتا ہے۔ اس دوران اس کی نگاہ مادیت کے پسِ پردہ حقائق پر ہوتی ہے۔ ایسی صورت میں غیب کی اطلاعات اس کے ذہن کو کنٹرول کررہی ہوتی ہیں یعنی وہ ماحول سے بے نیاز یا فیلڈ انڈی پینڈنٹ ہوتا ہے۔
یہ بات آپ پر واضح ہوچکی ہے کہ شیر خوار بچے کے ذہن میں تو حالت بیداری میں بھی ڈیلٹا لہریں پیدا ہوتی ہیں۔ ایسی صورت میں خارجی تواہمات، تصورات اور خیالات کی نفی ہوتی ہے۔ بچے کو مادیت کے پسِ پردہ حقائق نظر آرہے ہوتے ہیں۔ اس دوران ذہن کو خارجی ہدایات اور عوامل کنٹرول نہیں کرتے بلکہ اندرونی انرجی پر مبنی اطلاعات کنٹرول کررہی ہوتی ہیں۔ دوسرے لفظوں میں کائناتی انرجی یا روح ایسے افعال سرزد کروارہی ہوتی ہے جو بچے اُن کی بقاء کے لئے ضروری ہوتے ہیں ۔ اس سے یہ نتیجہ بھی نکلتا ہے کہ شیر خوار بچہ جب کسی کو دیکھتا ہے تو وہ اس کی ساری شکل کو نہیں بلکہ اس کے باطنی وجود کو بھی دیکھ رہا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے بچہ کچھ افراد کو دیکھ کر بہت خوش ہوتا ہے اور عجیب انداز میں مسکراتا ہے اور کئی افراد کو دیکھتے ہی رونا شروع کردیتا ہے۔
جہاں تک بچوں کا تعلق ہے شیر خوار بچے بھی انخلائے ذہنی کی کیفیت میں ہوتے ہیں۔ جہاں وہ خارجی ماحول اور تحریکات سے بے نیاز ہوتے ہیں وہ Hypnotic Trance تنویمی حالت میں ہوتے ہیں۔
متحرک:
آپ نے دیکھا ہوگا کہ بچے مسلسل حرکت میں رہنا پسند کرتے یں۔ اُن میں جمود یا تعطل واقع نہیں ہوتا۔ اگر ایک بچہ واقعی کچھ دیر تک خاموش یا غیر متحرک نظر آئے تو والدین کو فکر لاحق ہوجاتی ہے کہ بچہ بیمار تو نہیں ہوگیا۔ اب شیر خوار بچوں کو ہی لے لیں اُن کو ایک کام سے روکیں تو وہ فوراً ہی کوئی دوسرا کام شروع کردیتے ہیں ایک شئے سے اُن کی توجہ کو ہٹائیں تو فوراً ہی ان کی توجہ کوئی دوسرا ٹارگٹ تلاش کرلیتی ہے۔ کوئی طاقت ہے جو اُنہیں مسلسل متحرک رکھتی ہے۔
قلندر باباؒ فرماتے ہیں کہ....
‘‘روح کی ساخت مسلسل حرکت چاہتی ہے۔ بیداری کی طرح نیند میں بھی انسان کچھ نہ کچھ کرتا رہتا ہے’’۔
بچے خارجی ماحول سے بے نیاز اور روح کے ارادے کے ہی زیرِ کنٹرول ہوتے ہیں۔ بچے باطن سے قریب ہوتے ہیں اِسی لئے وہ بھی مسلسل حرکت میں رہنا چاہتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں زیادہ با عمل اور چست ہوتے ہیں۔
لیجئے ....!اس سے ایک اور فارمولا ہاتھ میں آیا کہ انسان جتنا زیادہ انر سے قریب ہوتا ہے اتنا ہی زیادہ باعمل اور چُست ہوتا ہے۔
بچوں میں کینہ نہیں ہوتا:
بچے کے اندر خیالات کا ایک فطری بہاؤ ہوتاہے جس میں جمود یا رکاوٹ پیدا نہیں ہوتی۔ خیالات کے بہاؤ میں رکاوٹ یا جمود کینہ، فکر اور پریشانی کا موجب ہوتے ہیں۔
خیالات کا فطری بہاؤ کینہ اور پریشانی نہ ہونے کی نشانی ہے۔ جیسے بہتا ہوا پانی صاف اور تازہ ہوتا ہے اور ایک جگہ پر رکا ہوا پانی تعفّن۔
بچے کو اگر کسی سے تکلیف پہنچتی ہے تو اگلے ہی لمحے وہ اُسے بھول جاتا ہے کیونکہ اس کا ذہن ایک ہی خیال پر ٹھہرتا نہیں ہے۔ اگلے ہی لمحے اسے نئے خیالات آتے ہیں اور وہ اگلے کاموں میں مگن ہوجاتا ہے یہ استغناء اور بے نیازی کی نشانی ہے۔
خیالات کے فطری بہاؤ سے قریب ہونے کے لیے مراقبہ کی ہدایت بھی کی جاتی ہے۔ مراقبہ کا طریقہ یہ ہے کہ ذہن میں آنے والے خیالات کی طرف توجہ نہیں کی جاتی اور ذہن کو اپنے تصور پر مرکوز رکھا جاتا ہے۔ اس دوران خیالات کے بہاؤ میں رُکاوٹ بھی نہیں ڈالی جاتی۔ آہستہ آہستہ مراقبہ کرنے والے کا رابطہ باطن میں بہنے والے چشمے سے مضبوط ہوتا چلا جاتا ہے۔
بچپن اور مراقبہ:
آپ شاید حیران ہو رہے ہوں کہ بچپن اور مراقبہ کا آپس میں کیا تعلق ہے۔
جناب ....!جان لیجئے کہ بچپن اور مراقبہ کے درمیان ایک گہرا تعلق ہے....
مراقبہ ایک بہت اچھا راستہ ہے جو ہمیں خراماں خراماں چلا کر بچپن کی ذہنی کیفیت کی طرف لے جاتا ہے۔ مراقبہ بچوں کی طرزِ فکر یا بچپن ذہنی فریکوئنسی یعنی ڈیلٹا لہریں حاصل کرنے کا ہی طریقہ ہے۔ مراقبہ کے ذریعے اپنے ذہن کی فریکوئنسی کو ڈیلٹا لہروں پر لایا جاسکتا ہے۔ مراقبہ کے دوران ہم اپنے ذہن میں آنے والے خیالات کی طرف متوجہ ہوتے ہیں لیکن اُن کے قدرتی بہاؤ میں مداخلت نہیں کرتے۔ آہستہ آہستہ خارجی خیالات کے بادل چھٹ جاتے ہیں اور باطنی اطلاعات آنا شروع ہوجاتی ہیں۔ مزید گہرائی ہونے پر اطلاع کا نقطہ کھلتا ہے اور اطلاع عملی طور پر رونما ہوجاتی ہے۔ اس طرح فرد بتدریج اپنے بچپن یا استغناء کی طرف یا ماورائی دنیا کی طر ف بڑھتا چلا جاتا ہے۔
اِسی بات کو محترم خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب ہمیں ان الفاظ میں سمجھاتے ہیں:
‘‘جب ہم وقت مقرر کرکے اپنے بچپن کو یاد کریں گے تو ہمارے قدم ازخود Reverse ہوجائیں گے اور ہم ماورائی دنیا کے دروازہ پر پہنچ جائیں گے’’۔
جوں جوں بچہ بڑا ہوتا ہے اُس کا شعور مضبوط ہوتا جاتا ہے۔ وہ دنیاوی علوم کو سیکھتا ہے توں توں اس کا انفرادی ارادہ، نظریات اور ذاتی پسند وناپسند وجود میں آجاتی ہے۔ یہ ذاتی پسند یا ناپسند اُسے اپنے اندر بہتے ہوئے فطری بہاؤ سے دور کردیتی ہے۔
جناب خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب سمجھاتے ہیں کہ:‘‘ایک بچہ دو سال میں 100 الفاظ سیکھتا ہے، ایک لفظ سیکھنے میں اس نے 10512 (دس ہزار پانچ سو بارہ) منٹ کا وقت صرف کیا۔ دو سال کی عمر کے بچہ کو نرسری کلاسز میں داخل کردیا جاتا ہے جہاں وہ تین سال کا وقت گزارتا ہے۔ اس طویل عرصے میں وہ انگریزی زبان کے 26 alphabets، اردو، انگریزی اور گنتی کے کل 162 objects یا حروف میں فی object اس نے 9733.3 منٹ میں سیکھا۔ یاد رہے ایک دن میں 1440 منٹ ہوتے ہیں۔ یوں ایک ایک حرف سیکھنے میں یہی بچہ بیس سال کی عمر تک پہنچتا ہے تو اُسے موجودہ دور میں بالغ شعور کہا جاتا ہے۔ بیس سال کے دوران 7300دن، 175200 گھنٹے اور 10512000 منٹ پر مشتمل وقت گزرا’’۔
لفظوں کا یہ کھیل جو بچپن سے شروع ہوا تھا اُسے جوانی تک لے آتا ہے۔ حروف کے گورکھ دھندوں میں وہ اتنا زیادہ بندھتا چلا جاتا ہے کہ اﷲ کے متعلق، اپنی جان کے متعلق سوچنے کا اُسے موقع ہی نہیں ملتا، یہ لفظ اُس کے نظریات، تجربات، مشاہدات، اعتقادات اور کردار بنتے ہیں۔ اُس سے وہ فطری اوصاف الگ ہوتے چلے جاتے ہیں جو اُسے بچپن میں حاصل تھے۔
بچہ کے متعلق رسول اﷲﷺ کا فرمان ہے
‘‘ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ مگر اس کے والدین اُسے یہود و نصاریٰ ، مجوسی یا مشرک بنادیتے ہیں’’۔ [صحیح مسلم ؛ جامع ترمذی]
اس کا مطلب یہ ہوا کہ بچہ جو پاکیزہ اوصاف لے کر پیدا ہوتا ہے وہ عین فطرت ہے۔ فطرت میں سکون ہے، سلامتی ہے، غیب ہے۔
قلندر بابا اولیاءؒ کا یہ فرمان اﷲ تعالیٰ کا عرفان حاصل کرنے کی کنجی ہے کہ : ‘‘ﷲ سے دوستی کرنا چاہتے ہو تو بچے بن جاؤ’’۔
روحانی ڈئجسٹ - فروری 2022ء - قلندر بابا اولیاء نمبر
بچہ بن جاؤ
تعلیماتِ قلندر بابا اولیاءؒ
بچہ بن جاؤ
تعلیماتِ قلندر بابا اولیاءؒ
