SadaeJaras (tinkling of the camel’s bell) - Waves of Thoughts, Sincerity of Intention and Law of Vision
صدائے جرس
خیالات کی لہریں، اخلاصِ نیت اور نظر کا قانون
خواجہ شمس الدین عظیمی
آدمی دراصل نگاہ ہے۔ نگاہ یا بصارت جب کسی شئے پر مرکوز ہو جاتی ہے تو اس شئے کو اپنے اندر جذب کرکے دماغ کے اسکرین پر لے آتی ہے اور دماغ اس چیز کو دیکھتا ہے اور محسوس کرتا ہے اور اس میں معنی پہناتا ہے۔ نظر کا قانون یہ ہے کہ جب وہ کسی شئے کو اپنا ہدف بناتی ہے تو دماغ کی سکرین پر اس شئے کا عکس پندرہ سیکنڈ تک قائم رہتا ہےاور پلک جھپکنے کے عمل سے یہ آہستہ آہستہ مدہم ہو کر حافظہ میں چلا جاتا ہے اور دوسرا عکس دماغ کی اسکرین پر آ جاتا ہے۔ اگر نگاہ کو کسی ہدف پر پندرہ سیکنڈ سے زیادہ مرکوز کر دیا جائے تو ایک ہی ہدف بار بار دماغ کی اسکرین پر وارِد ہوتا ہے اور حافظہ پر نقش ہوتا رہتا ہے۔ مثلاًہم کسی چیز کو پلک جھپکائے بغیر مسلسل ایک گھنٹہ تک دیکھتے ہیں تو اس عمل سے نگاہ قائم ہونے کا وصف دماغ میں پیوست ہو جاتا ہے اور ہوتے ہوتے اتنی مشق ہو جاتی ہے کہ شئے کی حرکت صاحبِ مشق کے اختیار اور تصرّف میں آ جاتی ہے۔ اب وہ شئے کو جس طرح چاہے حرکت دے سکتا ہے ۔ ٹیلی پیتھی کا اصول بھی ایسا ہی ہے کہ انسان کسی ایک نقطہ پر مرکوز ہو جائے۔ نگاہ کی مرکزیت حاصل کرنے میں کوئی نہ کوئی اِرادہ شامل ہوتا ہے۔ جیسے جیسے نگاہ کی مرکزیت پر عبور حاصل ہوتا ہے اسی مناسبت سے اِرادہ مستحکم اور طاقتور ہو جاتا ہے۔ ٹیلی پیتھی جاننے والا کوئی شخص جب یہ اِرادہ کرتا ہے کہ اپنے خیال کو دوسرے آدمی کے دماغ کی اسکرین پر منعکس کر دے تو اس شخص کے دماغ میں یہ اِرادہ منتقل ہو جاتا ہے۔ یہ شخص اس اِرادے کو خیال کی طرح محسوس کرتا ہے۔ اگروہ شخص ذہنی طور پر یکسو ہے تو یہ خیال تصّور اور احساسات کے مراحل سے گزر کر اس خیال کو قبول کر لیتا ہے ۔ یہ ہے نظر کا قانون....
نظر ِ بد بھی اسی قانون کا منفی رخ ہے۔ یعنی ٹیلی پیتھی، خیالات کو دوسرے تک منتقل کرنے کا علم ہے اور خیالات اور جذبات اگر منفی ہوں تو نظرِ بد کا عمل تشکیل پاتا ہے ۔
زندگی بنیادی طور پر خیالات اور اطلاع سے مرکب ہے۔ ہر انسان ہر وقت کچھ نہ کچھ سوچتا ہے۔ یعنی خیالات کی لہریں آدمی کے دماغ پر سے گزرتی رہتی ہیں۔ دراصل ساری کائنات لہروں کے تبادلے کے اوپر قائم ہے۔ کائناتی نظام اس سسٹم پر چل رہا ہے کہ لہر ہر وجود میں سے گزرتی ہے۔ آج کے دور میں ٹی وی، وی سی آر، ریڈیو، فریج اور اینٹینا اس کی روشن شہادت ہیں۔ زیادہ آسان لفظوں میں یوں کہا جاتا ہے کہ کائنات میں موجود ہر وجود میں ایک اینٹینا ہے۔ یہ اینٹینا ہر دوسرے وجود کی لہر کو قبول بھی کرتا ہے اور اپنی لہروں کو دوسرے وجود کے اینٹینا میں منتقل بھی کرتا ہے۔ جب تک وجود میں موجود نصب شدہ اینٹینا میں وصول کرنے اور منتقل کرنے کا عمل جاری نہ ہو کائنات کا کوئی ایک فرد نہ بول سکتا ہے اور نہ سن سکتا ہے۔ لہروں کی ایک وجود سے دوسرے وجود میں منتقلی کو سائنس نے توانائی کا نام دیا۔
اس حقیقت سے ایک فرد واحد بھی انکار نہیں کر سکتا کہ انسان کی زندگی میں خوشی اور غم کا تعلق براہ راست خیالات اور تصورات سے وابستہ ہے۔ کوئی خیال ہمارے لئے مسرت آگیں ہوتا ہے اور کوئی خیال انتہائی کرب ناک، ڈر، خوف، شک، حسد، طمع، نفرت و حقارت، غرور و تکبر، خود نمائی وغیرہ وغیرہ سب خیالات کی پیداوار ہیں۔ اور اس کے برعکس محبت، ایثار، یقین، انکساری اور حزن و ملال کا ہونا بھی خیالات کی کارفرمائی ہے۔ بیٹھے بیٹھے یہ خیال بجلی کی طرح کوندا جاتا ہے کہ ہمارے یا ہماری اولاد کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آ جائے گا۔ حالانکہ حادثہ پیش نہیں آیا لیکن یہ خیال آتے ہی حادثات سے متعلق پوری پریشانیاں، کڑی در کڑی ہم اپنے اندر محسوس کرتے ہیں۔ اور اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتے۔ یہی حال خوشی اور خوش حال زندگی کا ہے۔ جب کوئی خیال تصور بن کر ایسے نقطہ پر مرکوز ہو جاتا ہے جس میں شادمانی اور خوش حالی کی تصویریں موجود ہوں تو ہمارے اندر خوشی کے فوارے ابلنے لگتے ہیں۔ غم اور خوشی دونوں تصورات سے وابستہ ہیں۔ اور تصورات خیالات سے جنم لیتے ہیں۔ آپ نے ایسے مریض ضرور دیکھے ہوں گے کہ ان کے دماغ میں یہ بات نقش ہو گئی ہے کہ وہ اگر گھر سے باہر نکلیں گے تو ان کا ایکسیڈنٹ ہو جائے گا۔ خیال کی طاقت اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ وہ گھرسے باہر نکلنا چھوڑ دیتے ہیں۔ کچھ لوگوں کے ذہن میں چھپکلی یا بلی کا خوف بیٹھ جاتا ہے، کچھ لوگوں بار بار ہاتھ دھوتے رہتے ہیں، انہیں جراثیم کا خوف ہوتا ہے اور یہ خوف ان کے دماغ سے اس طرح چمٹ جاتا ہے کہ وہ ذہنی مریض بن کر رہ جاتے ہیں حالانکہ اس خوف کی بظاہر کوئی وجہ نہیں ہوتی۔ بس ایک مفروضہ خیال خوف بن کر دماغ پر چھا جاتا ہے۔
اصل بات خیالات کو معنی پہنانے کی ہے۔ خیالات کو جو معنی دیئے جاتے ہیں وہ تصور سجاتا ہے اور پھر یہی تصور مظاہراتی خدوخال اختیار کر کے ہماری زندگی کی راہ متعین کرتا ہے۔ غم و اندوہ سے لبریز یا آرام و آسائش سے بھرپور۔ تصورات میں اگر پیچیدگی ہے تو یہ الجھن اضطراب اور پریشانی کا جامہ پہن لیتا ہے۔ اور جب ایسا ہوتا ہے تو نقش باطن میں خراشیں پڑ جاتی ہیں۔ یہی خراشیں اخلاقی امراض کی بنیاد ہیں۔ ان ہی خراشوں سے بے شمار امراض پیدا ہوتے ہیں۔ مثلاً مرگی، دماغی فتور کا عارضہ، مالیخولیا، خفقان، کینسر، بھنگندر، دق سورسل وغیرہ۔
ایک بات بہت زیادہ فکر طلب ہے کہ اطلاع ایک ہے اور ایسی اطلاعات کو دو معنوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ مثلاً ایک اطلاع ہے بھوک۔ اس لئے کہ آدمی کھا پی کر زندگی کو قائم رکھتے ہوئے حرکت کرنے کے قابل ہے۔ بھوک رفع کرنے کی دوصورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ محنت مزدوری کر کے ایماندارانہ اور مخلصانہ طرزوں سے بھوک کو رفع کیا جائے اور بھوک کے تقاضے اس طرح پورے کئے جائیں جو بھلائی کے دائرے میں نہیں آتے۔ یہ اطلاع میں دوسرے معنی پہنانے کے مترادف ہے۔
بچہ سلیم فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ معصوم ہوتا ہے۔ ماحول، اس میں اچھائی، برائی، نیک و بد کے اثرات اجاگر کرتا ہے، نفس کی نشوونما ہوتی ہے۔ اگر بچے کی نشوونما فطری طور پر نہ کی جائے تو وہ اپنے اندر مستقل طور پر ایک طرح کا خلاء محسوس کرتا ہے اور اگر معاشرہ اس خلاء کو پُر کرنے کے لئے صحت مندانہ ذرائع فراہم نہیں کرتا تو پھر منفی رجحانات پروان چڑھتے ہیں، نیت میں فتور آ جاتا ہے، اخلاص ختم ہو جاتا ہے, اس کے علاوہ بے چینی، بے یقینی اور بے حسی کی علامتیں بھی ذہنی امراض کی غمازی کرتی ہیں۔ ان ذہنی امراض اور باطنی امراض میں جہل، غرور و نخوت، حسد، ریا، حرص، طمع، شک، امل اور وسواس وغیرہ شامل ہیں۔ ان بیماریوں کا بنیادی سبب انسان کا اپنے رب کائنات اور اپنی ذات سے فرار ہے۔ اس فرار میں ماحول کا بہت عمل دخل ہے۔
ہمارے اسلاف میں ایک بزرگ شاہ ولی اللہؒ گزرے ہیں ، انہوں نے بتایا کہ انسان کے جسم سے اوپر ایک اور انسان ہے جو روشنیوں کی لہروں سے مرکب ہے جس کا اصطلاحی نام انہوں نے نسمہ رکھا ہے، اصل انسان نسمہ یعنی اورا ہے جتنی بیماریاں یا الجھنیں اور پریشانیاں انسان کو درپیش ہوتی ہیں وہ نسمہ میں ہوتی ہیں اورنسمہ کی بیماری یا پریشانی کا مظاہرہ جسم پر ہوتا ہے ۔ بالفاظ دیگر اگر نسمہ کے اندر سے بیماری کو نکال دیا جائے تو جسم خود بخود صحت مند ہو جائے گا۔ شاہ ولی اللہؒ نے اس بات کی بھی تشریح کی ہے کہ آدمی اطلاعات، انفارمیشن یا خیالات کا مجموعہ ہے۔ صحت مند خیالات پرسکون زندگی کا پیش خیمہ ہیں۔ اس کے برعکس اضمحلال، پریشانی، اعصابی کشاکش، دماغی کشمکش اور نت نئی بیماریاں خیالات میں پیچیدگی، پراگندگی اور تخریب کی وجہ سے وجود میں آتی ہیں۔ روحانیت انفارمیشن، خیالات یا اطلاع کو جاننے کا علم ہے اس لئے یہ علم سیکھ کر کوئی آدمی خود بھی الجھنوں اور پریشانیوں سے محفوظ رہتا ہے اور اللہ کی مخلوق کی خدمت کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔
نیت کیا ہے! دل کا ایسی چیز کی طرف مائل ہو جانا جس کو اپنی غرض و نفع کے موافق سمجھتا ہے، نیت کہتے ہیں اور اس کے معنی ارادہ و قصد کے ہیں۔ ہر کام کے لیے پہلے علم کی ضرورت ہوتی ہے اور علم کے بعد اس کے عمل میں لانے کا قصد ارادہ ہوتا ہے۔ اس کے بعد ہی ہاتھ پاؤں ہلانے اور کام کرنے کی قدرت پیدا ہو گی۔ اس طرح وہ عزم اور پختہ میلان جس نے ہاتھ پاؤں ہلانے پر آمادہ کیا نیت کہلاتا ہے۔
رسول پاکﷺ کا ارشاد ہے: ‘‘حق تعالیٰ تمہاری صورتوں اور اعمالوں کی طرف نظر نہیں فرماتے۔ لیکن تمہاری نیتوں اور قلوب پر نظر فرماتے ہیں۔’’ [صحیح مسلم]
اپنی طرف سے صرف اللہ تعالیٰ کے قرب و رضا کا قصد رکھنا اور مخلوق کی خوشنودی و رضا مندی یا اپنی کسی نفسانی خواہش کی آمیزش نہ ہونے دینا اخلاص ہے۔ نیت میں خلوص ذہنی صحت اور نیت میں فتور عدم اخلاص اور ذہنی بیماری کی علامت ہے۔
جب شک سے یقین کی طرف، جہالت سے یقین کی طرف، غفلت سے ذکر کی طرف، گناہوں سے توبہ کی طرف، ریا سے خلوص، جھوٹ سے سچ کی طرف، سستی سے چستی کی طرف، غرور سے عاجزی کی طرف، اکڑ سے فروتنی کی طرف اور بے عملی سے عمل کی طرف آ کر اطمینان حاصل ہو جاتا ہے تو روح کو چین مل جاتا ہے۔ ان تمام باتوں کی بنیاد نیکی اور خود آگہی پر ہے۔
آج کل قرآن مجید کو محض ایصال ثواب اور حصول برکت کا ذریعہ بنا لیا گیا ہے ، قرآن پاک میں تسخیر کائنات سے متعلق جو فارمولے بیان ہوئے ہیں انہیں ہم سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے۔ جن لوگوں نے تسخیر کائنات سے متعلق فارمولوں کے رموز و نکات پر ریسرچ کی، اس کوشش میں اپنی زندگی کے ماہ و سال صرف کر دیئے انہیں اللہ تعالیٰ نے کامیابی عطا کی۔
خرد کے پاس خبر کے سوا کچھ اور نہیں ترا علاج نظر کے سوا کچھ اور نہیں
روحانی ڈئجسٹ - دسمبر 2022ء - نظرِ بد سے حفاظت نمبر
صدائے جرس
خواجہ شمس الدین عظیمی
روحانی ڈئجسٹ - دسمبر 2022ء - نظرِ بد سے حفاظت نمبر
صدائے جرس
خواجہ شمس الدین عظیمی
