بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
صل اللہ تعالیٰ علی حبیبہ محمد وآلہ وصحبہ وسلم
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
اللہ تعالی کے آخری نبی حضرت محمد رسول اللہ ﷺ مکہ مکرمہ سے ہجرت کرکے مدینہ منورہ تشریف لائے تو وہاں آپ نے ایک ریاست کے قیام اور ایک اچھے معاشرے کی تشکیل کے لیے کئی اہم اقدامات فرمائے ان میں
امن ِ عامہ کا قیام، تعلیم کا فروغ اور صحت کی نگہداشت بھی شامل تھی۔
صحت کے حوالے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ ان میں انفرادی طور پر لوگوں کو جو ہدایات دی گئیں، اس کے نتیجے میں اجتماعی طور پر حفظانِ صحت کے لحاظ سے کئی اہم نتائج حاصل ہوئے۔
نبی کریم علیہ الصلاۃ والسلام نے صفائی کی اہمیت پر بہت زیادہ زور دیا اور فرمایا کہ صفائی نصف ایمان ہے ۔
حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی ہدایات کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ ان میں زیادہ زور پریوینش پر دیا گیا ہے یعنی حفظان صحت پر دیا گیا ہے ، مقصد یہ ہے کہ آپ صاف ستھرے رہیے تو بیمار پڑنے کے امکانات کم سے کم ہو جائیں گے کھانا کھانے سے پہلے ہاتھ دھو ، دانتوں کی منہ کی صفائی کا خیال رکھو ، بھوک سے پہلے کھانا کھاؤ اور پیٹ بھرنے سے پہلے کھانا روک دو ، کھانا کھانے کے بعد پانی نہ پیا جائے اور دیگر کی ہدایات ان پر غور کرنے سے یہ ہمیں پتہ چلتا ہے کہ یہ سارے اقدامات اچھی صحت کی حفاظت کے ضامن ہیں ۔ اس سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ پریونشن پر توجہ دی جائے تو ملک میں، معاشرے میں کئی بیماریاں پھیلنے سے روکی جاسکتی ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی علاقے میں وبا پھیل رہی ہو تو اس علاقے میں مت جاؤ اور جو وہاں رہتے ، وبا کے علاقے میں وی وبا کے علاقہ سے دوسرے علاقے میں باہر نہ آئیں ۔
ایک صحابی کو رسول اللہ ﷺنے علاج کے لیے طبیب کے پاس جانے کی ہدایت فرمائی ، تو اس سے ہمیں یہ پتہ چلا کہ جب کوئی بیمار ہو ، ایک تو اس کے علاج پر اس کی توجہ ہونی چاہیے ۔ رسول اللہ نے فرمایا ہے کہ کوئی بیماری ایسی نہیں ہے جس کے دو اللہ نے پیدا نہ کی ہو۔ تو جو بیمار ہو تو دوا کی طرف انسان کو سوچنا چاہیے۔ دوسرا علاج کے لئے جو اس کا ایکسپرٹ ہے ، کوئی ماہر ڈاکٹر ہے ماہر حکیم ہے ماہر ہومیوپیتھ ہے، آج کل کے لحاظ سے ، تو ہمیں ان سے رجوع کرنا چاہیے۔
رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کو اگر ہم آج ٹھیک طرح اپنالیں تو ہمارے معاشرے میں جو بہت زیادہ بیماریاں پھیلی ہیں ، مثال کے طور پر حالیہ دنوں میں ڈینگی ہے ، ملیریا ہے، ٹائیفائیڈ ہے ، ہیضہ ہے اور اس طرح کی دیگر اور کئی بیماریاں ہیں، جو موسمی بیماریاں کہلاتی ہیں اور جو انفیکشن سے پھیلتی ہیں، نزلہ زکام ہے ، ہم ان سے بچ سکتے ہیں ۔ اور کئی بیماری جو انفیکشس بیماریاں نہیں ہیں، تعلیمات نبوی پر عمل کرنے سے ہم ان بیماریوں سے بھی کافی حد تک بچ سکتے ہیں ، مثال کے طور پر ڈائبٹیز ہے ، دل کے امراض ہیں، ہائی بلڈ پریشر ہے ، جوڑوں کا درد ہے ، معدہ کا السر ہے ۔
یہ بیماریاں زیادہ تر غذائیں بے اعتدالیوں کے ساتھ اور کھانے پینے کی علاوہ ، کئی اپنے معمولات کو ٹھیک نہ کرنے کی وجہ سے ہوتی ہیں۔
رسول اللہ ﷺ کی ہدایات پر عمل کرنے والے معاشرے میں ، وہاں بیماریاں پھیلنے کے امکانات کم سے کم ہو جائیں گے اس کا مطلب یہ ہے کہ وہاں بپلک ہیلتھ کی جو صورت حال ہے وہ بہت اچھی ہو جائے گی۔
ہمارے معاشرے کو صحت مند بنانے کے لئے اور ہمارے معاشرے کو ایک اچھا معاشرہ بنانے کے لیےتعلیمات نبوی سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کرنے کی ضرورت ہے۔
اسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
